سات سال بعد، امریکہ کی سڑکوں پر گیارہ ستمبر کے آثار براہ راست نظر نہیں آتے۔ لیکن بلڈنگز اور ائرپورٹس پر سخت سیکورٹی اور ہائی سرویلنس کی صورت میں امریکی طرز زندگی کا حصہ بن گئے ہیں۔
دائیں بازو کے تھنک ٹینک مین ہیٹن انسٹیٹیوٹ کے سینئیر فیلو آر پی ایڈی کا کہنا ہے کہ اگرچہ اُس واقعے کے بعد سرکاری پالیسیوں اور قوانین میں اہم تبدیلیاں آئی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ عام امریکیوں کی سوچ بدل گئی ہے۔
’میرا خیال ہے کہ امریکی ہونے کا مطلب نہیں بدلا، ہم کون ہیں اور یہ ملک کن اقدار کی ترجمانی کرتا ہے، اس میں تبدیلی نہیں آئی۔ امریکہ ابھی بھی وہ ملک ہے جہاں لوگوں کو ہر قسم کی آزادی ہے، ان کے پاس ترقی کے مواقع ہیں اور وہ مل جل کر رہتے ہیں۔ زیادہ تر امریکی ان اقدار کی بہت قدر کرتے ہیں اور انہیں بہت عزیز رکھتے ہیں۔ ”
لیکن اس نقطہ نظر سے سب لوگ متفق نہیں۔
جمیل جعفر امریکہ میں انسانی حقوق کی ایک بڑی تنظیم امیریکن سول لبرٹیز یونین یا اے سی ایل یو میں نیشنل سیکورٹی پراجیکٹ کے ڈائریکٹر ہیں۔ ان کی تنظیم کا موقف ہے کہ گیارہ ستمبر کے بعد سے قوانین میں جو تبدیلیاں آئی ہیں، انہوں نے امریکہ کی بنیادی اقدار، مثلًا آزادی اظہار، پر ضرب لگائی ہے۔
’جب لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ حکومت ان پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ وہ کیا بات چیت کر رہے ہیں، انٹرنیٹ پر کن ویب سائٹس پر جا رہے ہیں یا کن لوگوں کو ای میل کر رہے ہیں تو لوگ اپنے جمہوری حقوق کو استعمال کرنے سے ڈرتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ جو بھی حکومت کے خلاف آواز اٹھائے گا اس پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ ”
امیگرینٹس یا تارکین وطن کا ملک کہلانے والے امریکہ میں اگرچہ نسلی امتیاز برتنا جرم ہے، لیکن کچھ اقلیتوں کو پھر بھی شکایت ہے۔ ان میں بروکلین کی پاکستانی برادری بھی شامل ہے۔
بروکلین کے لٹل پاکستان کہلانے والے علاقے میں گیارہ ستمبر کے اثرات بہت واضح ہیں۔ پرانے رہنے والے بتاتے ہیں کہ یہاں لاہور کے مشہور بازار انار کلی جیسی رونق نظر آتی تھی۔ کوئی دکان خالی نہیں تھیں اور بزنس ترقی کر رہے تھے۔
امریکی شہریوں اور گرین کارڈ ہولڈرز کے ساتھ ساتھ اس علاقے میں ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی بھی تھی جو روزگار کی تلاش میں غیر قانونی طور پر یہاں آ بسے تھے۔
گیارہ ستمبر کے بعد، خصوصًا جب حکومت نے رجسٹریشن شروع کی تو یہاں بڑے پیمانے پر ریڈز پڑنے شروع ہوئے اور یہ علاقہ خالی ہو گیا۔
بزنس مین محمد راضوی نے گیارہ ستمبر کے بعد اپنی برادری کی مدد کے لیے ایک غیر سرکاری تنظیم کونسل آف پیپلز آرگنائزیشن شروع کی۔
وہ بتاتے ہیں کہ نہ صرف سٹور بند ہوئے اور مقامی برادری کو نقصان ہوا بلکہ اس علاقے کی ہئیت بھی بدلنے لگی۔ جہاں پہلے ایک پاکستانی نائی کی دکان تھی، وہاں ایک روسی نے شراب کی دکان کھول لی۔
کولمبیا یونیورسٹی میں جرنلزم اور سوشیالوجی کے پروفیسر ٹوڈ گٹلن کو اس پر حیرت نہیں کہ کچھ اقلیتوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تاریخی طور پر امریکہ میں مختلف ادوار میں مختلف گروہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
’امریکہ کی پہلی جنگ عظیم میں شرکت کے خلاف ایک تحریک چلی تھی، جس کے نتیجے میں جنگ کے خلاف بولنے والوں، لکھنے والوں، چھاپنے والوں، کو لمبی جیلیں کاٹنی پڑیں۔ جنگ کے فورًا بعد، 1919 میں پالمر ریڈز ہوئے، جو اٹارنی جنرل کی ایماء پر کیے گئے۔ جس میں ہزاروں لوگوں کو حراست میں لیا گیا۔ ”
اسی طرح دوسری جنگ عظیم میں پرل ہاربر پر جاپانی حملے کے بعد ایک لاکھ سے زائد جاپانی نژاد افراد کو خصوصی کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ 1988 میں امریکی حکومت نے اس پر معافی مانگی تھی اور ڈیڑھ ارب ڈالر سے زائد جرمانہ ان لوگوں اور ان کے خاندانوں کو ادا کیا تھا۔
حکومت کا موقف ہے کہ آج کے امریکہ میں حالات مختلف ہیں۔
جان ملر ایف بی آئی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کا محکمہ کسی بھی خاص مذہب، نسل یا برادری کو نشانہ نہیں بنا رہا اور نہ ہی بنا سکتا ہے کیونکہ یہ امریکی قانون کے خلاف ہے۔
’اگر آپ ایف بی آئی ڈائریکٹر ملر کی تقاریر سنیں تو آپ کو کہیں بھی اسلامک ٹیرررزم یا مسلم ٹیررسٹ جیسے الفاظ نہیں ملیں گے۔ ہم اس سلسلے میں بہت احتیاط کرتے ہیں اور پرتشدد انتہا پسند کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ تاکہ ہم کسی برادری کے تمام افراد کو ایک ہی رنگ میں نہ رنگ دیں۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ عمومًا چند لوگ ہی قانون توڑتے ہیں۔ اور ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ہمیں اسی برادری کی مدد کی ضرورت ہے، کیونکہ وہی لوگ ہمیں بتا سکتے ہیں کہ کون شخص مشکوک کاروائیوں میں ملوث ہے۔ اور بارہا ہمیں اس طرح کی مدد ملی ہے اور ہم نے امریکہ پر ہونے والے حملوں کو بروقت روکا ہے۔ ”
اس کے باوجود امریکہ کی کئی اقلیتیں خوف کے سائے میں زندہ ہیں۔ بروکین کے علاقے لٹل پاکستان میں زیادہ تر لوگ میڈیا سے بات کرنے سے ہچکچاتے ہیں کہ کہیں حکام کی نظر میں نہ آ جائیں۔
اے سی ایل یو کے مسٹر جعفر کا خیال ہے کہ امریکہ ایک تاریخی موڑ پر کھڑا ہے اور اگلے چند سالوں میں امریکی معاشرے کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنی معاشرتی اقدار کو دہشت گردی کے خوف کے گرد استوار کرنا چاہتے ہیں یا انسانی حقوق کی بالادستی کے گرد۔