گیارہ ستمبر 2001 کو نیویارک اور پنٹاگان پر دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ اور اتحادیوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ امریکہ نے قبائلی علاقوں میں قائْم القاعدہ اور طالبان کے مراکز ختم کرنے کے لیے اسے فوجی اور مالی وسائل فراہم کیے۔ اس جنگ میں پاکستان کی کارکردگی بہت نمایاں رہی مگر اس سانحے کے سات سال بعد عام پاکستانیوں کا یہ کہنا ہے کہ اس جنگ کے برعکس نتائج برآمد ہوئے ہیں اور ان کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔
ایک شہری کا کہنا تھا کہ اتحاد کا ساتھ دینے کا فیصلہ درست نہیں تھا۔ اس سے پاکستان کا عام شہری غیر محفوظ ہوگیا ہے۔ گھر سے باہر قدم رکھتے ہوئے اسے یہ خوف ہوتا ہے کہ کہیں وہ کسی خودکش دھماکے کی لپیٹ میں نہ آجائے۔
ایک اور شہری کا کہنا تھا کہ گرمیوں کے موسم میں وہ صحت افزا ء مقامات کی سیر پر جایاکرتے تھے مگر اب خودکش حملوں کے خوف سے ایسا کرنا ان کے لیے ممکن نہیں رہا۔
ایک اور شہری نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی مدد کی جس کا بدلہ طالبان ہم سے لے رہے ہیں اور ہمارے شہر اور سڑکیں غیر محفوظ ہوگئی ہیں۔
نائین الیون کے بعد کی صورت حال کے بارے میں طالب علموں کا کہنا تھا کہ امریکی تعلیمی اداروں میں ان سے تعصب برتا جاتا ہے اور انہیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
جبکہ پاکستان کی حکومت کا موقف یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری اپنی جنگ ہے جو پاکستان اپنے ملک کو دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خطرے سے بچانے کے لیے لڑ رہاہے۔