Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

کمیونیٹی پولیس غیر یقینی مستقبل کے باوجود ٹریفک کو رواں رکھنے میں پرعزم


October 14, 2008

Karachi Traffic
لگ بھگ ایک کروڑ ستر لاکھ آبادی پر مشتمل کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کا اہم تجارتی مرکز بھی ہے۔دنیا کے دیگر بڑے شہروں کی طرح اس شہر کے ٹریفک کے مسائل بھی سنگین ہیں جسے بہتر بنانے کیلئے شہری حکومت کی جانب سے گذشتہ چند سالوں میں جہاں شہر بھر میں سڑکوں کی مرمت،انڈر پاسز ،فلائی اوورز کا جال بچھایا گیاوہاں ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کیلئے کمیونیٹی پولیس کا قیام بھی عمل میں آیا۔سٹی ناظم سید مصطفی کمال کی جانب سے گذشتہ سال ستمبر میں قائم کی جانے والی اس نئی فورس کی ذمہ داریوں میں انتہائی مصروف اوقات کے دوران صرف بلا تعطل ٹریفک کو رواں رکھنا ہی شامل نہیں تھابلکہ بلدیاتی معاملات کو حل کرنے سمیت تجاوزات کے خاتمے ، شہریوں اوربنیادی ڈھانچے کو بھی محفوظ بنانا تھا۔

Karachi Community policeman
بلیک ٹی شرٹ اور کمانڈو پینٹس میں ملبوس یہ فورس شہر کی اہم اور بڑی شاہراہوں اور حساس مقامات پر تعینات دکھائی دیتی ہے۔یہ اہلکار شہریوں کو ٹریفک کے قوانین کی پاسداری کرانے،ٹریفک کو منظم کرنے،درست پارکنگ کرانے اور پیدل چلنے والوں کو سڑک پار کرانے میں مدد دینے کے ساتھ ٹریفک کے چھوٹے تنازعات کو حل کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ان کی موجودگی شہر میں ٹریفک کی بدترین صورتحال میں کس حد تک تبدیلی لا سکی ہے چیف کمیونیٹی پولیس کراچی اظہر ہاشمی کہتے ہیں کہ کراچی میں ٹریفک کی صورتحال میں کافی حد تک بہتری آئی ہے۔بالخصوص ماہ رمضان جوٹریفک انتظامیہ کیلئے ایک testing period ہوتا ہے اس دوران ہمیں ٹریفک کا کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ رمضان المبارک کے دوران کمیونیٹی پولیس کی موجودگی سے جہاں بڑی شاہراہوں پر ٹریفک کی صورتحال بہتر رہی وہاں انہیں رات کو بازاروں کی مانیٹرنگ پر بھی مامور کیا گیا۔چیف کمیونیٹی پولیس کا کہنا ہے کہ جب بھی ٹریفک پولیس کو ان کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے وہ ٹریفک کو کنٹرول کرنے کیلئے انہیں طلب کرتے ہیں۔شہر میں ٹریفک کی ابتر صورتحال کی ایک اہم وجہ محکمہ ٹریفک کے پاس افرادی قوت کی کمی ہے جس کی وجہ سے محکمہ ٹریفک کیلئے یہ ممکن نہیں کہ وہ شہر کے تمام چوراہوں پر ٹریفک اہلکار کھڑے کر سکیں۔یہ وجہ بدنظمی اور ٹریفک قوانین کی خلا ف ورزی کا باعث بنتی ہے۔ڈی آئی جی ٹریفک واجد علی خان درانی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ شہر میں ٹریفک پولیس کی تعداد 3500 ہے جبکہ ضرورت 6000 کی ہے۔اگر اس کمی کو پورا کر دیا جائے تو ٹریفک کے مسئلے پر باآسانی قابو پایا جاسکتا ہے۔

تاہم یہ فورس اب شہر میں موجود مختلف سیاسی جماعتوں بالخصوص پیپلزپارٹی کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں ہے جو سب سے پہلا سوال ان کی قانونی حیثیت پر اٹھاتے ہیں۔پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کے مطابق کمیونیٹی پولیس کی موجودگی کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس میں بھرتی سیاسی بنیادوں پر کی گئی ہے جبکہ اس فورس کے قیام کے وقت شہری حکومت کی جانب سے یہ واضح کیا گیا تھاکہ بھرتی ٹاوٴن کی سطح پر کی جائے گی اور مقامی لوگوں کو اس میں شامل کیا جائے گا۔اس تنقید کے جواب میں چیف کمیونیٹی پولیس کہتے ہیں کہ اس فورس کا قیام گذشتہ سال ستمبر میں سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس(SLGO) کے سیکشن142 کے تحت عمل میں آیا ہے اور بھرتی کیلئے باقاعدہ بڑے اخبارات میں اشتہارات جاری کئے گئے جس کے بعد 100 سپروائزرز اور 1400 کونسٹیبلز کو کنٹریکٹ پر ملازمت دی گئی۔یہ ایک کھلی پالیسی تھی۔

Community Policemen
ریگولر ٹریفک پولیس اور کمیونیٹی پولیس کے درمیا ن فرق صرف لباس کا نہیں ہے بلکہ تنخواہوں اور اختیارات کا بھی ہے۔ریگولر ٹریفک پولیس کی تنخواہ پانچ ہزارجبکہ کمیونیٹی پولیس کے اہلکاروں کی چھ ہزار ہے۔ کمیونیٹی پولیس کے پاس کسی قسم کا کوئی اختیار بھی نہیں ۔ حالیہ بجٹ میں ان کے لئے رقم بھی مختص کی گئی ہے ۔جو سیاسی جماعتوں کے نزدیک وسائل کا ضیاع ہے۔ چیف کمیونیٹی پولیس کا کہنا ہے کہ جہاں تک وسائل کے بے جا استعمال کا تعلق ہے تو یہ ایک واحد فورس ہے جس کا کوئی ہیڈکوارٹر نہیں۔ایک دو کمروں میں بیٹھ کر ہم اپنی پوری فورس کو موبلائز کرتے ہیں ۔ہماری پندرہ سو کی فورس تین شفٹوں میں کام کرتی ہے اور ہمارے پاس صرف بیس کے قریب موبائلز ہیں۔

کنٹریکٹ پر ملازمت ہونے اور اختیارات نہ ہونے کی وجہ سے کمیونیٹی پولیس کے اہلکاروں کے بھی کچھ خدشات ہیں۔ایک اہلکار معتصم کا کہنا ہے کہ ملازمت مستقل اور تنخواہ زیادہ ہونی چاہئے۔وہ کہتے ہیں کہ شہری ان سے تعاون کرتے ہیں لیکن اکثر اوقات انہیں منفی رویوں کا بھی سامنا رہتا ہے مگر اختیارات نہ ہونے کی وجہ سے وہ خاموش رہتے ہیں۔دوسری جانب کمیونیٹی پولیس کی موجودگی کے مثبت نتائج کی بناء پر عوامی حلقوں میں انہیں پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ محکمہ ٹریفک اپنی رٹ قائم کرنے میں ناکام رہا ہے ایسے میں اس فورس کا قیام ان کے لئے خوش آئند ہے اور ان کی تعداد میں اضافے کی ضرورت ہے تاکہ ٹریفک کا نظام مکمل طور پر بہتر ہوسکے۔

Karachi Community Police
موجودہ سٹی گورنمنٹ کی مدت حکومت ختم ہونے کے بعدا س فورس کا مستقبل غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔لیکن چیف کمیونیٹی پولیس اظہر ہاشمی پر امید ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ فورس سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس(SLGO) کے تحت منظور کردہ ہے اس لئے اسے کوئی خطرہ نہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ہمارا بنیادی مقصد تجاوزات کا خاتمہ ،غیر قانونی تعمیرات اور بل بورڈزکی روک تھام اور شہری حکومت کے انفراسٹرکچر کو محفوظ بنانا ہے۔ 

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
بھارت کی جانب سے پاکستان پر باضابطہ الزام

  مزید خبریں
بغداد اور موصل میں بموں کے حملوں میں 33لوگ ہلاک
ایران میں ایک نئے میزائل کا تجربہ
اوباما نے ہلیری کلنٹن کو وزیرِ خارجہ مقرر کر دیا
باغیوں کے اہم شہر پر سری لنکا کی فوج کا قبضہ
افغانستان میں بم کے خود کُش حملے میں 10 افراد ہلاک
بنکاک: مظاہرین عدالتی فیصلے کے منتظر 
کمال اتاترک کی زندگی پر ایک متنازعہ فلم 
امریکہ میں سبزی خوری کے رجحان میں اضافہ
ایڈز کا عالمی دن: بیشتر توجہ روک تھام پر مرکوز
امریکہ کسادبازاری سے دوچار ہے: اقتصادی ماہرین
غیرملکی عناصر قوموں کو یرغمال نہیں بنا سکتے ،صدر زرداری
ممبئی حملوں سے فلمی دنیا لرزہ براندام
”پاکستان ممبئی دھماکو ں کی تحقیقات میں مکمل تعاون کرے“
سوات خود کش حملہ کم ازکم سات ہلاک
کراچی میں تشدد جاری ،مزید11 ہلاک
پاک بھارت تناؤ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو دھچکا لگ سکتا ہے  Video clip available
ممبئی میں دہشت گرد حملوں کے بعد بھارت۔پاک تعلقات پر خطرے کے بادل
امریکہ میں نئے صدر کی آمد اور پرانے صدر کی رخصتی کس طرح ہوتی ہے؟  Video clip available
واشنگٹن کی تاریخی عمارتوں کے دلچسپ حقائق  Video clip available
وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنا بیرون ملک دورہ منسوخ کردیا
چینی صدر کا اقتصادی انحطاط کے بارے میں انتباہ
اوباما معیشت کی بحالی کے لیے پرعزم ہیں  Video clip available
اوباما ، ہلری کلنٹن کو وزیرِ خارجہ نامزد کردیں گے
صومالی سمندری ڈاکؤں کے ساتھ سمجھوتا  یوکرین کے جہاز کو جلد ہی چھوڑ دیا جائے گا
کابل میں بم کا خوکُش حملہ  تین افراد ہلاک چھ زخمی
بنوں، لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں
پکڑے ہوئے دہشت گرد کا کہنا ہے کہ اُسے کیے گئے قتلِ عام پرکوئی پشیمانی نہیں
اسرائیل نے مزید فلسطیوں کی رہائی کی منظوری دے دی