لگ بھگ ایک کروڑ ستر لاکھ آبادی پر مشتمل کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کا اہم تجارتی مرکز بھی ہے۔دنیا کے دیگر بڑے شہروں کی طرح اس شہر کے ٹریفک کے مسائل بھی سنگین ہیں جسے بہتر بنانے کیلئے شہری حکومت کی جانب سے گذشتہ چند سالوں میں جہاں شہر بھر میں سڑکوں کی مرمت،انڈر پاسز ،فلائی اوورز کا جال بچھایا گیاوہاں ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کیلئے کمیونیٹی پولیس کا قیام بھی عمل میں آیا۔سٹی ناظم سید مصطفی کمال کی جانب سے گذشتہ سال ستمبر میں قائم کی جانے والی اس نئی فورس کی ذمہ داریوں میں انتہائی مصروف اوقات کے دوران صرف بلا تعطل ٹریفک کو رواں رکھنا ہی شامل نہیں تھابلکہ بلدیاتی معاملات کو حل کرنے سمیت تجاوزات کے خاتمے ، شہریوں اوربنیادی ڈھانچے کو بھی محفوظ بنانا تھا۔
بلیک ٹی شرٹ اور کمانڈو پینٹس میں ملبوس یہ فورس شہر کی اہم اور بڑی شاہراہوں اور حساس مقامات پر تعینات دکھائی دیتی ہے۔یہ اہلکار شہریوں کو ٹریفک کے قوانین کی پاسداری کرانے،ٹریفک کو منظم کرنے،درست پارکنگ کرانے اور پیدل چلنے والوں کو سڑک پار کرانے میں مدد دینے کے ساتھ ٹریفک کے چھوٹے تنازعات کو حل کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ان کی موجودگی شہر میں ٹریفک کی بدترین صورتحال میں کس حد تک تبدیلی لا سکی ہے چیف کمیونیٹی پولیس کراچی اظہر ہاشمی کہتے ہیں کہ کراچی میں ٹریفک کی صورتحال میں کافی حد تک بہتری آئی ہے۔بالخصوص ماہ رمضان جوٹریفک انتظامیہ کیلئے ایک testing period ہوتا ہے اس دوران ہمیں ٹریفک کا کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ واضح رہے کہ رمضان المبارک کے دوران کمیونیٹی پولیس کی موجودگی سے جہاں بڑی شاہراہوں پر ٹریفک کی صورتحال بہتر رہی وہاں انہیں رات کو بازاروں کی مانیٹرنگ پر بھی مامور کیا گیا۔چیف کمیونیٹی پولیس کا کہنا ہے کہ جب بھی ٹریفک پولیس کو ان کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے وہ ٹریفک کو کنٹرول کرنے کیلئے انہیں طلب کرتے ہیں۔شہر میں ٹریفک کی ابتر صورتحال کی ایک اہم وجہ محکمہ ٹریفک کے پاس افرادی قوت کی کمی ہے جس کی وجہ سے محکمہ ٹریفک کیلئے یہ ممکن نہیں کہ وہ شہر کے تمام چوراہوں پر ٹریفک اہلکار کھڑے کر سکیں۔یہ وجہ بدنظمی اور ٹریفک قوانین کی خلا ف ورزی کا باعث بنتی ہے۔ڈی آئی جی ٹریفک واجد علی خان درانی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ شہر میں ٹریفک پولیس کی تعداد 3500 ہے جبکہ ضرورت 6000 کی ہے۔اگر اس کمی کو پورا کر دیا جائے تو ٹریفک کے مسئلے پر باآسانی قابو پایا جاسکتا ہے۔
تاہم یہ فورس اب شہر میں موجود مختلف سیاسی جماعتوں بالخصوص پیپلزپارٹی کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں ہے جو سب سے پہلا سوال ان کی قانونی حیثیت پر اٹھاتے ہیں۔پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کے مطابق کمیونیٹی پولیس کی موجودگی کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس میں بھرتی سیاسی بنیادوں پر کی گئی ہے جبکہ اس فورس کے قیام کے وقت شہری حکومت کی جانب سے یہ واضح کیا گیا تھاکہ بھرتی ٹاوٴن کی سطح پر کی جائے گی اور مقامی لوگوں کو اس میں شامل کیا جائے گا۔اس تنقید کے جواب میں چیف کمیونیٹی پولیس کہتے ہیں کہ اس فورس کا قیام گذشتہ سال ستمبر میں سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس(SLGO) کے سیکشن142 کے تحت عمل میں آیا ہے اور بھرتی کیلئے باقاعدہ بڑے اخبارات میں اشتہارات جاری کئے گئے جس کے بعد 100 سپروائزرز اور 1400 کونسٹیبلز کو کنٹریکٹ پر ملازمت دی گئی۔یہ ایک کھلی پالیسی تھی۔
 |
|
ریگولر ٹریفک پولیس اور کمیونیٹی پولیس کے درمیا ن فرق صرف لباس کا نہیں ہے بلکہ تنخواہوں اور اختیارات کا بھی ہے۔ریگولر ٹریفک پولیس کی تنخواہ پانچ ہزارجبکہ کمیونیٹی پولیس کے اہلکاروں کی چھ ہزار ہے۔ کمیونیٹی پولیس کے پاس کسی قسم کا کوئی اختیار بھی نہیں ۔ حالیہ بجٹ میں ان کے لئے رقم بھی مختص کی گئی ہے ۔جو سیاسی جماعتوں کے نزدیک وسائل کا ضیاع ہے۔ چیف کمیونیٹی پولیس کا کہنا ہے کہ جہاں تک وسائل کے بے جا استعمال کا تعلق ہے تو یہ ایک واحد فورس ہے جس کا کوئی ہیڈکوارٹر نہیں۔ایک دو کمروں میں بیٹھ کر ہم اپنی پوری فورس کو موبلائز کرتے ہیں ۔ہماری پندرہ سو کی فورس تین شفٹوں میں کام کرتی ہے اور ہمارے پاس صرف بیس کے قریب موبائلز ہیں۔ کنٹریکٹ پر ملازمت ہونے اور اختیارات نہ ہونے کی وجہ سے کمیونیٹی پولیس کے اہلکاروں کے بھی کچھ خدشات ہیں۔ایک اہلکار معتصم کا کہنا ہے کہ ملازمت مستقل اور تنخواہ زیادہ ہونی چاہئے۔وہ کہتے ہیں کہ شہری ان سے تعاون کرتے ہیں لیکن اکثر اوقات انہیں منفی رویوں کا بھی سامنا رہتا ہے مگر اختیارات نہ ہونے کی وجہ سے وہ خاموش رہتے ہیں۔دوسری جانب کمیونیٹی پولیس کی موجودگی کے مثبت نتائج کی بناء پر عوامی حلقوں میں انہیں پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ محکمہ ٹریفک اپنی رٹ قائم کرنے میں ناکام رہا ہے ایسے میں اس فورس کا قیام ان کے لئے خوش آئند ہے اور ان کی تعداد میں اضافے کی ضرورت ہے تاکہ ٹریفک کا نظام مکمل طور پر بہتر ہوسکے۔
موجودہ سٹی گورنمنٹ کی مدت حکومت ختم ہونے کے بعدا س فورس کا مستقبل غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔لیکن چیف کمیونیٹی پولیس اظہر ہاشمی پر امید ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ فورس سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس(SLGO) کے تحت منظور کردہ ہے اس لئے اسے کوئی خطرہ نہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ہمارا بنیادی مقصد تجاوزات کا خاتمہ ،غیر قانونی تعمیرات اور بل بورڈزکی روک تھام اور شہری حکومت کے انفراسٹرکچر کو محفوظ بنانا ہے۔