 |
| پاک بھارت سیکریٹری خارجہ ملاقات (فائل فوٹو) |
پاک بھارت جامع مزاکرات کا پانچواں دور21 جولائی سے نئی دہلی میں ہوگا۔ ان مزاکرات میں دونوں ممالک کے مابین امن اور سیکورٹی کے علاوہ اعتماد سازی اور کشمیرکے معاملے پر بات ہوگی۔ہفتے کو دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیاہے کہ سیکرٹری خارجہ کی سطح پر ہونے والے ان مزاکرات میں کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والی حدبندی یا لائن آف کنٹرول (LOC) کے دونوں جانب اعتماد سازی کے لیے کئے جانے والے اقدامات کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ بیان میں اس امید کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ اس حوالے سے کچھ نئی تجاویز بھی زیر غور آئیں گی۔
خیال رہے کہ جمعہ کو اسلام آباد میں لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب بسنے والوں کے درمیان سفر اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے پاکستان اوربھارت کے ورکنگ گروپ کا ایک اجلاس ہواجس میں رواں سال مئی میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور بھارت کے وزیر خارجہ پرناب مکھرجی کے درمیان ہونے والے مزاکرات کی روشنی میں اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق ورکنگ گروپ میں دیگر موضوعات کے علاوہ لائن آف کنڑول کے دونوں جانب تجارت کو بڑھانے کے لیے ٹرک سروس شروع کرنے پر زور دیاگیا تاہم مزاکرات کے بعد اس حوالے سے اعلان کی صورت میں کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی اور خیال کیا جا رہا ہے جامع مزاکرات کے اگلے دور میں اعتماد ساز ی کے لیے دیگر اقدامات کے علاوہ ایل او سی کی دونوں جانب تجارت اور سفری سہولیات میں بہتری کے لیے اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کی روشنی میں یہ سلسلہ آگے بڑھایا جائے گا۔
واضح رہے کہ تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان اب تک ہونے والی بات چیت میں اعتماد سازی کے لیے جو اقدامات کیے گئے ان میں مظفر آباد ، سری نگر اور روالاکوٹ پونچھ بس سروس کے علاوہ لائن آف کنٹرول پر چار مقامات پر کراسنگ پوائنٹس کھولے گئے ہیں جن میں ٹیٹوال، تتہ پانی اور چکوٹھی شامل ہیں تاکہ ایل او سی کے دونوں اطراف بسنے والے منقسم کشمیری خاندانوں کو ایک دوسرے سے ملنے میں سہولت ہو۔ اس کے علاوہ دونوں طرف کشمیری رہنماؤں کو آنے جانے کی سہولتیں دی گئی ہیں جس کے نتیجے میں گزشتہ چند سالوں کے دوران کل جماعتی حریت کانفرنس کے قائدین کئی مرتبہ پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر کے دورے کر چکے ہیں۔
ادھر جمعہ کو پاکستان کی تجارتی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے وزیر تجار ت احمد مختارنے کہا کہ 2008-2009 کے لیے نئی تجارتی پالیسی کے تحت بھارت سے سٹین لیس سٹیل، سی این جی بسیں، معدنیات سے متعلق مشینری سمیت بہت سی اشیاء درآمد کی جا سکیں گی۔ نئی تجارتی پالیسی کے تحت بھارت سے درآمدات کے اعلان کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے ان اشاروں کو تقویت ملی ہے کہ صدر مشرف کی حکومت کے بعد اب موجودہ اتحادی حکومت بھی بھارت کے ساتھ بہتر اقتصادی تعلقات کی خواہاں ہے۔
 |
| وزیر تجار ت احمد مختار |
ماہرین کا کہنا ہے گو کہ دونوں پڑوسی ممالک کے مابین دیرینہ حل طلب مسئلہ کشمیر پر کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے تاہم 2004ء سے شروع ہونے والے جامع امن مزاکرات اور باہمی اعتماد سازی کے اقدامات کے باعث دونوں ہمسایہ ممالک کے باہمی تعلقات میں نہ صرف بہتری آئی ہے بلکہ خطے میں کشیدگی میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ جامع مزاکرات ہی کے باعث حادثاتی جنگ سے بچنے کے لیے ایک ایسا معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت دونوں ملکوں کو میزائل تجربات سے پہلے ایک دوسرے کو پیشگی اطلاعات دینا لازم ہے ۔
جامع مزاکرات کے پانچویں دور کے آغاز سے پہلے دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر کی اپنے بھارتی ہم منصب شیوشنکر مینن کی سربراہی میں دونوں ممالک کے وفود کے مابین ہونے والی بات چیت سے یہ موقع ملے گا کہ دونوں ممالک باہمی دلچسپی کے امور پرکھل کر بات کر یں گے۔