 |
| تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کے صدارتی امیدوار |
برطانوی ذرائع ابلاغ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور صدارتی امیدوار آصف علی زرداری کی مبینہ خراب ذہنی حالت سے متعلق چھپنے والی خبروں اور سوئٹزرلینڈ کی عدالت کی طرف سے ان کی تین ارب روپے سے زائد رقم کی واپسی کی اطلاعات پر تبصرہ کرتے ہوئے صدراتی انتخاب میں ان کے حریف امیدوارسینیٹر مشاہد حسین نے کہا ہے کہ آصف علی زرداری ایک متنازعہ شخصیت بن گئے ہیں اور صدر پاکستان کے عہدے کے لیے ان کی اہلیت ایک سوالیہ نشان بن گئی ہے۔
جمعہ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کے قومی مفاد کی خاطر ، جمہوریت کے استحکام کی خاطر اور اپنی پارٹی کے سیاسی مستقبل کی خاطر صدارتی انتخاب سے دستبردار ہو جائیں۔
 |
| وزیر اطلاعات شیری رحمن |
سینیٹر مشاہد حسین کے اس بیان کے فوری رد عمل میں وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمن نے سوئٹزرلینڈ کے بینک اکاؤنٹ میں آصف زرداری کے چھ کروڑ ڈالرز کی رقم کی منتقلی سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان خبروں کو پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار کے خلاف میڈیا ٹرائل کا حصہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ آصف زرداری ایک مضبوط صدارتی امیدوار ہیں اور چھ ستمبر کو وہ پاکستان کے صدر بننے کا اعزاز حاصل کریں گے۔
ادھر مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے بھی واضح کیا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی نے ججوں کی بحالی کا ان کا مطالبہ مان لیاتو وہ اپنے صدارتی امیدوار سعید الزماں صدیقی کو ہٹانے پر غور کرسکتے ہیں لیکن فی الحال ایسے کوئی امکانات نہیں ہیں۔
پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) تینوں جماعتیں اپنے اپنے امیدواروں کی حمایت حاصل کرنے کی خاطرحلیف اور حریف سیاسی جماعتوں سے رابطوں میں مصروف ہیں جبکہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے والے امیدواروں کی حتمی فہرست الیکشن کمیشن ہفتے کو جاری کردے گا۔